ہاپوڑ،25/دسمبر(ایس او نیوز/ایجنسی) ملک میں شہریت ترمیم قانون نافذ ہونے کے بعد ایک طرف جہاں مسلسل احتجاج جاری ہیں تو دوسری طرف اس قانون کو لے کر صحیح معلومات نہ ہونے کی وجہ کئی شہروں میں میونسپلٹی دفتروں میں افراتفری دیکھنے کو مل رہی ہے، یہی حال ہاپوڑ کا ہے، جہاں بڑی تعداد میں لوگ پیدائش سرٹیفکٹ بنوانے کے لئے درخواست دے رہے ہیں، ان میں سے بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو 1950 سے پہلے پیدا ہوئے تھے۔
ہاپوڑ نگر پالیکا کے ای او جے کے آنند نے کہا، "پیدائش کا سرٹیفکیٹ بنوانے کے لئے اچانک بھیڑ امنڈ پڑی ہے، کچھ لوگ 1948 اور کچھ لوگ 1952 کے پیدائش سرٹیفکٹ بنوا رہے ہیں، ہم جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ پرانی تاریخوں کی معلومات حاصل کرنے میں پریشانی ہو رہی ہے، پھر بھی ہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، میں یہ نہیں سمجھ پا رہا ہوں کہ یہ غیر متوقع ہجوم کیوں ہے، بتا دیں کہ پیر تک قریب 500 سے زیادہ لوگوں نے درخواست کی ہیں۔ پہلے یہ اعداد ہفتے میں صرف 5-6 کا ہی ہوتا تھے۔
نوجوانوں کے ساتھ ہی 1948 تک کے لوگ پیدائش کا سرٹیفکیٹ بنوانے کے لئے درخواست دے رہے ہیں، یعنی ملک کی آزادی اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے لوگ بھی پیدائش سرٹیفکیٹ بنوانے کے لئے درخواست دے رہے ہیں۔ اتنے پرانے پیدائش کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں حکام کے پسینے چھوٹ رہے ہیں۔
بتا دیں کہ سی اے اے کو لے کر یوپی میں بھی بڑے پیمانے پر پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں، کئی اضلاع میں انٹرنیٹ بند رکھنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں لیا گیا، کئی اضلاع میں بڑے پیمانے پر لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے گرفتاریاں کی گئی ہیں۔